Tahqiqi Akhlaqiyat
رپورٹ برائے لیکچر: تحقیقی اخلاقیات (Research Ethics)
مورخہ: 25 جون 2026
مقام: سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر(گاندربل)
آج مورخہ ۲۵ جون۲۰۲۶ کو دوپہر ڈھائی بجے سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے شعبۂ اردو میں "تحقیقی اخلاقیات (Research Ethics)" کے موضوع پر ایک علمی و فکری لیکچر کا انعقاد کیا گیا۔ اس علمی نشست کے مہمانِ خصوصی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے ممتاز محقق اور دانشور پروفیسر ڈاکٹر آصف ملک صاحب تھے، جنہوں نے تحقیقی اخلاقیات کے مختلف پہلوؤں پر نہایت مدلل، بصیرت افروز اور فکرانگیز گفتگو کی۔
تقریب کا آغاز شعبۂ اُردو کے فاضل استاد ڈاکٹر محمد راشد عزیز صاحب کی نظامت سے ہوا۔انہوں نے اپنے پُرمغز اور شائستہ کلمات کے ذریعے معزز مہمان ڈاکٹر آصف ملک صاحب کا تعارف پیش کیا. انہوں نے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر آصف ملک صاحب کا تعارف کراتے ہوئے ان کی علمی و تحقیقی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ساتھ ہی شعبہ کی سربراہ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نصرت جبین صاحبہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مختصر وقت میں اس اہم علمی نشست کا انعقاد ممکن بنایا۔ انہوں نے اس امر پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ ریسرچ اسکالرز اور طلبہ نے اس لیکچر میں شرکت کی، جو یقیناً ان کے علمی مستقبل کے لیے مفید اور رہنمائی کا باعث ثابت ہوگی۔
لیکچر کے آغاز سے قبل ڈاکٹر راشد عزیز صاحب نے عصرِ حاضر کے ممتاز شاعر، ادیب اور دانشور ڈاکٹر مبارک لون کو دعوتِ سخن دی گئی۔ڈاکٹر مبارک لون نے اپنی منفرد شعری بصیرت اور دل نشیں اندازِ بیان سے محفل کو ایک ادبی وقار عطا کیا۔ غزل کے چند اشعار درج ذیل ہیں:
نگر نگر، گلی گلی، ادھر گیا اُدھر گیا
جگہ جگہ میں ریت کا بدن لیے بکھر گیا
یہ کیا کہ آج کل بڑا عبادتوں میں محو ہے
یہ کیا کہ لوٹ کر سکونِ کسی کا وہ سدھر گیا
وہ کون تھا جو آ گیا ضمیر کے فریب میں
یہ کون ہے جو اس طرح تڑپ تڑپ کے مر گیا
نہیں کو اس نے ہاں کیا، زمین کو آسمان کیا
وہ شخص تھا نگاہ بلند، سو بے سبب مکر گیا
یہ رزم گاہِ عشق بھی لہو لہو ہے ہر طرف
وہاں کسی کا دل گیا، یہاں کسی کا سر گیا
ڈاکٹر مبارک لون کی اس پُراثر غزل نے حاضرین کو فکری اور جذباتی سطح پر اپنی گرفت میں لے لیا۔ اشعار میں موجود معنوی گہرائی، علامتی اظہار اور انسانی احساسات کی ترجمانی نے محفل کو ایک روح پرور کیفیت سے ہمکنار کیا۔سامعین نے شاعر کو بھرپور داد پیش کی اور یوں علمی نشست کا آغاز ایک یادگار ادبی رنگ کے ساتھ ہوا۔
اس کے بعد مہمانِ خصوصی ڈاکٹر آصف ملک صاحب کو خطاب کے لیے مدعو کیا گیا۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر آصف ملک صاحب نے تحقیقی اخلاقیات کی باریکیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ تحقیق محض معلومات کے حصول کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی علمی ذمہ داری ہے جس کی بنیاد سچائی، امانت داری، دیانت اور غیر جانب داری پر استوار ہوتی ہے۔ انہوں نے سرقۂ ، حوالہ نویسی، تحقیقی شفافیت اور علمی ذمہ داری جیسے موضوعات پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے محققین کو تحقیق کے اعلیٰ اخلاقی معیار اپنانے کی تلقین کی۔ انہوں نے تحقیقی اخلاقیات کے موضوع پر نہایت جامع، مدلل اور مثالوں سے مزین گفتگو کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ لفظ "اخلاقیات" دراصل "خلق" سے ماخوذ ہے، جس کے ظاہری اور باطنی دونوں پہلو انسان کی شخصیت اور کردار کی تشکیل میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک محقق کے لیے صرف علمی قابلیت کافی نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق، دیانت داری، سچائی، شفافیت اور ذمہ داری بھی ناگزیر اوصاف ہیں۔
ڈاکٹر آصف ملک صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ تحقیق میں دیانت داری بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔محقق کو چاہیے کہ وہ اپنے موضوع کے انتخاب، مواد کی ترتیب، نتائج کی پیشکش اور حوالہ جات کے استعمال میں مکمل صداقت اور امانت داری کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحقیق کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ علم میں حقیقی اضافہ کرنا ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے اس نکتے کی طرف بھی توجہ دلائی کہ تحقیق کے لیے ایسے موضوعات کا انتخاب زیادہ سودمند ثابت ہوتا ہے جن کے مصنفین یا شخصیات کے حوالے سے تاریخی فاصلہ موجود ہو، کیونکہ اس سے محقق کو زیادہ معروضی اور غیر جانبدارانہ انداز میں تجزیہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی موضوع پر پہلے کام ہو چکا ہو تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس پر مزید تحقیق کی گنجائش ختم ہو گئی ہے، کیونکہ ہر نیا محقق کسی نئے زاویے، نئی جہت یا نئے تناظر کو سامنے لا سکتا ہے۔اپنی گفتگو کو مؤثر بنانے کے لیے انہوں نے اردو تحقیق کے نامور محققین جیسے گیان چند جین، امداد امام اثر اور رشید حسن خان کے علمی کارناموں کا حوالہ دیا اور ان کی تحقیقی دیانت داری کو مثال کے طور پر پیش کیا۔ مزید برآں انہوں نے اپنی تحقیقی زندگی کے تجربات اور پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے ریسرچ اسکالرز کو عملی زندگی کے تقاضوں اور چیلنجز سے آگاہ کیا۔
ڈاکٹر آصف ملک صاحب کی گفتگو کا سب سے نمایاں وصف ان کی صاف گوئی، متانت اور غیر مبالغہ آمیز اندازِ بیان تھاانہوں نے جہاں محققین کو دیانت داری اور ذمہ داری کی تلقین کی، وہیں سپروائزرز اور اساتذہ کی ذمہ داریوں کی نشاندہی بھی کی، تاکہ تحقیق کا پورا عمل علمی اور اخلاقی معیار کے مطابق آگے بڑھ سکے۔
بعد ازاں شعبۂ اردو کی سربراہ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نصرت جبین صاحبہ نے اپنے صدارتی کلمات میں مہمانِ خصوصی ڈاکٹر آصف ملک صاحب کی تشریف آوری اور ان کی فکر انگیز گفتگو پر دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ خوبصورت شعر پیش کیا:
کہتا ہے سازِ دل کا ہر اک تار شکریہ
سو سو زباں سے آپ کا ہر بار شکریہ
اس شعر کے ذریعے انہوں نے مہمانِ خصوصی کی علمی خدمات اور ان کی قیمتی رہنمائی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اس حقیقت پر زور دیا کہ زندگی میں کامیابی، شناخت اور مقام حاصل کرنے کے لیے انسان کو خود آگے بڑھ کر مواقع پیدا کرنے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محض انتظار کرنے سے منزلیں حاصل نہیں ہوتیں بلکہ اپنی صلاحیتوں، محنت اور عزم کے بل بوتے پر اپنے لیے راستے ہموار کرنا پڑتے ہیں۔ ان کے مطابق جو افراد اعتماد، استقلال اور حوصلے کے ساتھ میدانِ عمل میں قدم رکھتے ہیں، وہی اپنی منزلِ مراد تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔اسی خیال کو مزید واضح کرتے ہوئے انہوں نے علامہ محمد اقبال کا یہ ولولہ انگیز شعر بھی پیش کیا:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
انہوں نے کہا کہ علم و تحقیق کی دنیا بے کنار امکانات سے بھری ہوئی ہے۔ ایک کامیابی کے بعد نئی منزلیں اور نئے چیلنجز انسان کے منتظر ہوتے ہیں، اس لیے محقق کو کبھی جستجو اور سیکھنے کے عمل سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے ریسرچ اسکالرز کو تلقین کی کہ وہ علمی و تحقیقی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کریں، اپنی تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتوں کو نکھاریں اور ہر اس موقع سے فائدہ اٹھائیں جو ان کی علمی، فکری اور شخصی نشوونما کا سبب بن سکتا ہو۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ڈاکٹر آصف ملک کا یہ بصیرت افروز لیکچر نوجوان محققین کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا اور انہیں تحقیق کے میدان میں مزید سنجیدگی، دیانت داری اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دے گا۔
تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر الطاف حسین نقشبندی صاحب کو اظہارِ تشکر کے لیے دعوت دی گئی۔ انہوں نے فرداً فرداً تمام معزز شخصیات کا شکریہ ادا کیا۔ خصوصاً ڈاکٹر آصف ملک صاحب کا، جو اپنی نجی مصروفیات اور کشمیر کے ذاتی دورے کے باوجود طلبہ و اسکالرز کی علمی رہنمائی کے لیے اس نشست میں شریک ہوئے۔ انہوں نے ڈاکٹر محمد راشد عزیز صاحب کی بہترین نظامت اور ڈاکٹر نصرت جبین صاحبہ کی علمی کاوشوں کو بھی سراہا۔ ساتھ ہی تمام ریسرچ اسکالرز، طلبہ اور شرکائے محفل کا شکریہ ادا کیا جن کی موجودگی نے اس علمی نشست کو کامیاب بنایا۔
یہ لیکچر محض ایک علمی نشست نہیں تھا بلکہ تحقیق کے میدان میں قدم رکھنے والے نوجوان محققین کے لیے ایک فکری تربیت گاہ ثابت ہوا۔ ڈاکٹر آصف ملک صاحب کی بصیرت افروز گفتگو نے حاضرین کو اس حقیقت کا احساس دلایا کہ تحقیق صرف معلومات جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ سچائی، دیانت داری، اخلاقی ذمہ داری اور علمی امانت کے ساتھ علم کی خدمت کا ایک مقدس فریضہ ہے۔ بلاشبہ یہ نشست شرکاء کے ذہنوں میں دیرپا نقوش چھوڑ گئی اور انہیں تحقیق کے اعلیٰ اخلاقی اصولوں سے روشناس کرانے میں کامیاب رہی۔
ریسرچ اسکالرز
انجیلا قریشی