Radio Nashriyat Main Urdu Rozgar Ke Mawakeh
*خواجاؤں کی چوکھٹ سے لوح سخن تک: رخسانہ جبین کے ساتھ ایک شام*
میر خورشید
کچھ محفلیں وقت کے دامن میں ایسی کہکشاں سمیٹ لیتی ہیں جن کی روشنی برسوں دل و دماغ کو منور رکھتی ہے۔ ۳۰ ستمبر ۲۰۲۶ء کو شعبۂ اردو سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے زیر اہتمام منعقدہ توسیعی خطبہ بھی ایک ایسی ہی یادگار ادبی و فکری نشست تھا جہاں وادیٔ کشمیر کی ممتاز شاعرہ، مترجم اور ریڈیو کشمیر کی سابق اسٹیشن ڈائریکٹر محترمہ رخسانہ جبین نے اپنے نصف صدی پر محیط تخلیقی و نشریاتی سفر کے اوراق وا کیے۔
نشست کی صدارت صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر نصرت جبین نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض معروف استاد و نقاد ڈاکٹر محمد راشد عزیز نے اپنے مخصوص شگفتہ اور پُروقار انداز میں انجام دیے۔ تقریب کا آغاز مولانا عبدالعزیز کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد شعبے کی محققہ روحی جان نے پروین شاکر کے شعر سے مہمان خصوصی کا تعارف کراتے ہوئے ان کے مجموعے عروسِ سخن، حافظ شیرازی کی غزلوں کے کشمیری منظوم ترجمے بدورِ خاص اور نشریاتی خدمات پر روشنی ڈالی۔
اپنے توسیعی خطبے میں رخسانہ جبین نے بتایا کہ کس طرح خواجہ بازار کے روایتی ماحول سے نکل کر کشمیر یونیورسٹی کی بزم ادب میں ان کی ادبی صلاحیتوں کو جلا ملی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ممتاز نقاد پروفیسر حامدی کشمیری نے ان کے اندر چھپی ہوئی شاعرہ کو پہچانا، مطالعے کی راہ دکھائی اور مسلسل مشق و اصلاح سے ان کے فن کو نکھارا۔ انہوں نے بتایا کہ شاعری محض جذبے کا نام نہیں بلکہ زبان کی باریکیوں، عروض کی فہم اور ریاضت کا تقاضا کرتی ہے۔
ریڈیو سے اپنی وابستگی کو انہوں نے ایک حسین اتفاق قرار دیا جو آگے چل کر ان کی شناخت بن گیا۔ معروف براڈکاسٹر بشارت احمد مرحوم کی ترغیب پر انہوں نے یو پی ایس سی کا امتحان پاس کر کے ریڈیو کشمیر میں بطور پروگرام ایگزیکٹو قدم رکھا۔ ۱۹۹۴ء میں پونچھ ریڈیو اسٹیشن کے قیام کے دوران ان کا تبادلہ ایک کڑا امتحان تھا جسے انہوں نے نئے ادبی امکانات کی تلاش میں بدل دیا اور وہاں لیاقت جعفری سمیت کئی نو آموز اہل قلم کی فکری آبیاری کی۔ بعد ازاں ان کا مقبول مارننگ شو "پیامِ صبح" مسلسل دس برس تک اپنی شائستہ زبان اور سحر انگیز لب و لہجے کے باعث سامعین کے دلوں پر راج کرتا رہا۔
شاعری کو اپنے "دل کی ڈائری" قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فن کار تلخ تجربات اور شدید جذبات کو سطحی ردعمل میں ضائع کرنے کے بجائے تخلیق کے سانچے میں ڈھال دیتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے پروین شاکر کی زمین میں اپنی غزل کے یہ اشعار ترنم سے سنا کر محفل کو مسحور کر دیا:
اپنے پاؤں میں یہ ڈلوانے لگا زنجیر کون؟
میرے سینے سے نکالے ہے تمہارے تیر کون؟
اب ذرا افواہ اپنی موت کی پھیلا کے دیکھ
حلقۂ احباب میں ہے کس قدر دلگیر کون؟
جدید دور میں ریڈیو کے وجود پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ میڈیم بدلا ہے ختم نہیں ہوا۔ پوڈکاسٹ اور ڈیجیٹل اسٹریمنگ کے دور میں بھی زبان کی صحت اور معیاری مواد کی اہمیت مسلم ہے۔ طالبات کو درپیش سماجی و خاندانی رکاوٹوں کے تناظر میں انہوں نے اپنی جدوجہد کا نچوڑ ایک زریں جملے میں پیش کیا: "کنونس کرنا ہے، لڑنا نہیں ہے۔" یعنی اپنے کردار، وقار اور مسلسل کامیابی سے اپنوں کو قائل کیا جائے تو رکاوٹیں خود بخود احترام میں بدل جاتی ہیں۔
صدرِ شعبہ ڈاکٹر نصرت جبین نے صدارتی خطبے میں غالب کے شعر سے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے ریاست کے کثیر اللسانی اور جغرافیائی تنوع میں اردو کی رابطہ کاری کی حیثیت کو واضح کیا اور ریڈیو کشمیر کے تربیتی کردار کو سراہا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ادبی ذوق کو صحافت، اینکرنگ اور اسکرپٹ رائٹنگ جیسی عملی مہارتوں سے جوڑیں۔
تقریب کے اختتام پر مہمان گرامی کو یادگاری شیلڈ اور سند توثیق پیش کی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر راشد عزیز کا یہ برجستہ جملہ کہ "آج کیمرے میں دو جبینوں کی تابندگی کا سنگم قید ہو رہا ہے" فضا کو زعفران زار کر گیا۔ شعبے کے محقق زاہد کے کلمات تشکر کے ساتھ یہ بزم اپنے اختتام کو پہنچی۔ بلاشبہ یہ شام اردو کے طلبہ کے لیے زبان کی عملی طاقت، خود اعتمادی اور جہد مسلسل کی ایک مشعل راہ بن گئی۔