Mazhabi Idarun Ki khidmat
مذہبی اداروں کی اردو خدمات، اردو کے علمی و ادبی فروغ میں نمایاں کردار
سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے شعبۂ اردو میں توسیعی خطبہ، ترجمہ، تحقیق، تصنیف، تدوین، سیرت نگاری اور اشاعت میں مذہبی اداروں کی خدمات پر تفصیلی گفتگو
سری نگر، 2 ستمبر 2026ء: سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے شعبۂ اردو میں بدھ کے روز "مذہبی اداروں کی اردو خدمات" کے موضوع پر ایک اہم علمی و فکری نشست کے تحت توسیعی خطبے کا انعقاد عمل میں آیا۔ نشست کی صدارت شعبۂ اردو کی سربراہ ڈاکٹر نصرت جبین صاحبہ نے فرمائی، جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر راشد عزیز صاحب نے انجام دیے۔ مہمان خطیب کی حیثیت سے گورنمنٹ ڈگری کالج پلورا جموں کے شعبۂ اردو کے صدر ڈاکٹر عبدالحق نعیمی صاحب شریک ہوئے۔ نشست میں شعبۂ اردو کے اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور سمسٹر اول و سوم کے طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔
ڈاکٹر عبدالحق نعیمی صاحب نے اپنے خطاب میں علم، مذہب، انسانیت اور غور و فکر کے باہمی تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علم صرف عبارت پڑھ لینے کا نام نہیں بلکہ عبارت کے اندر موجود نکتے کو سمجھنے اور اس پر غور و فکر کرنے کا نام بھی ہے۔ انہوں نے نیوٹن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کسی چیز کو دیکھنا اہم ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم اس مشاہدے پر غور کرنا اور اس کے پیچھے موجود حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔
مذہب اور سائنس کے تعلق کے حوالے سے انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کا معروف قول نقل کیا:
"مذہب عقیدہ دیتا ہے، سائنس عقیدہ لیتی ہے۔"
انہوں نے کہا کہ مذہب انسان کو غور و فکر سے روکتا نہیں بلکہ کائنات اور اس کی نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے قرآن کریم کی آیت:
قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ
پیش کی۔ انہوں نے مذہب اور انسانیت کے تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی تعلیم اگر حقیقی طور پر انسان کے دل میں اتر جائے تو انسان کے اندر نفرت اور تعصب کے بجائے محبت، اخوت اور انسانیت پیدا ہوتی ہے۔
موضوع کے مرکزی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحق نعیمی صاحب نے کہا کہ مذہبی اداروں کی اردو خدمات، اردو زبان کی تاریخ کا ایک نہایت اہم باب ہیں۔ مذہبی اداروں سے وابستہ اہل علم نے عربی اور فارسی کے وسیع علمی، دینی اور تہذیبی سرمائے کو اردو میں منتقل کرکے اردو زبان کے علمی ذخیرے میں نمایاں اضافہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم کے تراجم و تفاسیر، حدیث، فقہ، تاریخ اور سیرت کی متعدد کتابوں کے تراجم اور تصانیف کے ذریعے اردو میں ایک وسیع مذہبی و علمی سرمایہ وجود میں آیا۔ انہوں نے تاریخ ابن کثیر، تاریخ طبری، تفسیر قرطبی، فتاویٰ شامی اور فتاویٰ ہندیہ جیسی ضخیم کتابوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کتابوں کے اردو میں منتقل ہونے سے زبان کے علمی سرمائے میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
اردو تحقیق اور تدوین کے حوالے سے انہوں نے حافظ محمود شیرانی، مولانا امتیاز علی عرشی اور رشید حسن خاں کی خدمات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی اداروں سے تعلیم یافتہ اہل علم نے اردو تحقیق، تدوین، تصنیف اور تنقید کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ رشید حسن خاں کی تدوینِ متن کے حوالے سے انہوں نے باغ و بہار، گلزار نسیم اور دیگر اہم متون کا ذکر کیا۔
انہوں نے سیرت نگاری کے حوالے سے علامہ شبلی نعمانی کا ذکر کرتے ہوئے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم، سیرۃ النعمان، الفاروق، المأمون اور موازنۂ انیس و دبیر جیسی تصانیف کا حوالہ دیا۔ اسی طرح مولانا محمد حسین آزاد، مولانا ابوالکلام آزاد اور رجب علی بیگ سرور کی علمی و ادبی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی تعلیم یافتہ اہل علم نے اردو نثر، ترجمہ نگاری، سوانح نگاری، تاریخ نگاری اور دیگر ادبی شعبوں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر عبدالحق نعیمی صاحب نے عربی و فارسی کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے لغوی ذخیرے، اصطلاحات اور تراکیب میں بھی ان زبانوں کا نمایاں حصہ ہے۔ انہوں نے لغت بابائے اردو، فیروز اللغات اور فرہنگ آصفیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی اداروں میں عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کرنے والے اہل علم کے ذریعے بے شمار الفاظ، اصطلاحات اور علمی تعبیرات اردو زبان کا حصہ بنیں۔
اس موقع پر شعبۂ اردو کی سربراہ ڈاکٹر نصرت جبین صاحبہ نے اپنے اختتامی خطاب میں مہمان خطیب کی گفتگو کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان و ادب کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اردو کے فروغ میں مذہبی اداروں نے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا ہر علم کسی نہ کسی زبان کا سہارا لیتا ہے تاکہ وہ علم عام لوگوں تک پہنچ سکے اور برصغیر میں اسلامی تعلیمات کی ترویج و اشاعت کے لیے اردو نے اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ صوفیہ اور مذہبی اداروں سے وابستہ اہل علم جب اسلام کی تعلیمات عوام تک پہنچاتے تھے تو انہیں ایسی زبان کی ضرورت تھی جسے عام ہندوستانی سمجھ اور بول سکتا ہو اور اردو نے یہ کردار بخوبی ادا کیا۔ اسی وجہ سے اردو کے ابتدائی دستیاب مخطوطات اور تحریری سرمائے میں مذہبی موضوعات سے متعلق مواد نمایاں طور پر ملتا ہے۔
ڈاکٹر نصرت جبین صاحبہ نے کہا کہ "مذہبی اداروں کی اردو خدمات" سے مراد صرف کسی ایک مذہب کے ادارے نہیں بلکہ برصغیر کے ان مذہبی اداروں کی اردو خدمات ہیں جو اس خطے کی اردو داں آبادی اور اردو زبان کے علمی و تہذیبی ماحول سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اہل علم اور ادیبوں نے بھی اردو زبان کی خدمت کی ہے اور مختلف مذہبی کتابوں کے اردو تراجم اس کی واضح مثال ہیں۔
انہوں نے موجودہ دور میں مذہبی اداروں کی اردو خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی مذہبی اداروں میں اردو کو میڈیم آف انسٹرکشن کی حیثیت سے بنیادی اہمیت حاصل ہے اور مذہبی رسائل و جرائد کے ذریعے اردو کی اشاعت و ترویج کا سلسلہ جاری ہے۔
ڈاکٹر نصرت جبین صاحبہ نے مذہبی علمی سرمائے کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی اداروں کے پاس موجود عظیم علمی، مذہبی اور ادبی سرمائے کو ڈیجیٹلائز کیا جانا چاہیے تاکہ یہ سرمایہ آنے والی نسلوں تک محفوظ صورت میں پہنچ سکے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔
آخر میں ڈاکٹر راشد عزیز صاحب نے اظہار تشکر کیا، جس کے بعد شعبۂ اردو کے اسکالر انظر نبی صاحب نے بھی کلمات تشکر پیش کیے۔ انہوں نے مہمان خطیب، شعبۂ اردو کی سربراہ، اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات کا شکریہ ادا کیا۔ اختتام پر شعبۂ اردو کی جانب سے ڈاکٹر عبدالحق نعیمی صاحب کو سندِ اعزاز پیش کی گئی اور دعائیہ کلمات کے ساتھ نشست اختتام پذیر ہوئی۔