CU Kashmir Home E-Office Help Docs
  • Skip to Navigation
  • Skip to Main Content
  • A+
  • A-
  • A
  • Home
  • About
    • The Department
    • History, etc
    • Achievements
  • People
    • Head/ Coordinator
    • Academic Coordinator
    • Faculty
      • Dr. Nusrat Jabeen
      • Dr. Mohammad Rashid Azeez
      • Dr. Altaf Hussain Naqshbandi
    • Administrative Staff
      • Mr. Mansoor Ahmad Sofi
      • Ms. Uzma Manzoor
      • Mohammad Momin Sofi
    • Research Scholars
    • Students
      • MA Urdu Students List Batch: 2025
      • MA Urdu List, Batch: 2026
  • Academics
    • Research Programmes
    • PG Programmes
    • UG Programmes
    • Academic Calendar, etc.
  • Research
    • Research Areas
    • Projects
    • Facilities
    • Publications, etc
  • Activities
    • Events, etc.
      • Two days syllabus reviving meeting department of urdu
      • 9th Board of Studies Meeting, Department of Urdu
      • Dissertation Viva-Voce of MA Urdu, 4th Semester (Batch-2024)
    • Guest Lectures/ Expert Talks
    • Outreach and Extension Activities, etc.
    • Latest Announcements
  • Placements
  • Contact Us
    • Contact Details of Department of Urdu, CUK
menubar
Department of
Urdu
Facebook
Instagram
LinkedIn
YouTube
Contact
Admissions
Central University of Kashmir Logo
New Website BETA
Visit Current Website
  • English
  • Hindi
  • Urdu
  • Kashmiri
Menu
  • Department of Urdu
  • Events
  • Adabi Mulaqat
Administrator 21/05/2026
Adabi Mulaqat

*ادب ، شعور اور تخلیق کا روشن استعارہ* 

 _شعبۂ اردو سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کی ایک یادگار ادبی نشست_ 

 *21 مئی 2026ء، بروز جمعرات* بعد نماز ظہر تقریباً ڈھائی بجے سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے شعبۂ اردو میں ایک نہایت وقیع بامقصد اور یادگار ادبی نشست منعقد ہوئی جس میں معروف افسانہ نگار ، انشائیہ نگار اور صاحب طرز ادیبہ *محترمہ زنفر کھوکھر صاحبہ* نے بطور مہمان خصوصی شرکت فرما کر محفل کو علمی و ادبی وقار بخشا۔

علم و ادب کسی بھی معاشرے کی فکری شناخت اور تہذیبی روح ہوتے ہیں جب علمی ادارے ادب اور اہل ادب کو نئی نسل سے جوڑنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں تو محض ایک تقریب منعقد نہیں ہوتی بلکہ فکر و احساس کے نئے دریچے وا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نوعیت کی ادبی محفلیں ذہنی و فکری بیداری کا مؤثر ذریعہ بن جاتی ہیں۔
یہ ادبی نشست دراصل شعبۂ اردو کی اس خوبصورت اور قابل تحسین روایت کا تسلسل تھی جس کے تحت اردو ادب کی نمایاں شخصیات کو طلبہ کے روبرو مدعو کیا جاتا ہے تاکہ نئی نسل براہ راست ان کے افکار ، تجربات اور تخلیقی سفر سے فیض یاب ہو سکے اس طرح کی محفلیں ادب کے چراغ سے چراغ جلانے کا عمل ہوتی ہیں جہاں احساس ، شعور اور فکر کو نئی توانائی میسر آتی ہے۔
پروگرام کی نظامت کے فرائض ہمارے دل عزیز استاد محترم *ڈاکٹر راشد عزیز* صاحب نے نہایت شائستگی ، فکری سنجیدگی اور ادبی وقار کے ساتھ انجام دیے اپنے ابتدائی کلمات میں انہوں نے ادب کی معنویت اور تخلیقی اظہار کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسان کے شب و روز معاشرتی حالات اور زندگی کے تلخ و شیریں تجربات ہی ادب کی بنیاد بنتے ہیں ایک حساس ادیب معاشرے میں پیدا ہونے والی بے چینی ، اضطراب اور ناانصافی کو تشدد یا اشتعال کے بجائے فکر و فن کے پیرائے میں پیش کرتا ہے تاکہ وہ سماج کی اصلاح ، انسانی بیداری اور فکری ارتقا کا ذریعہ بن سکے۔
بعد ازاں *ڈاکٹر راشد عزیز* صاحب نے باقاعدہ مہمان خصوصی کے رسمی استقبال اور تعارف کے لیے شعبۂ اردو کی سربراہ ہماری استانی محترمہ *ڈاکٹر نصرت جبین* صاحبہ کو دعوت کلام دی *ڈاکٹر نصرت جبین* صاحبہ نے نہایت پرتپاک انداز میں *محترمہ زنفر کھوکھر صاحبہ* کا استقبال کیا اور ان کی علمی و ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا انہوں نے کہا کہ ادب محض الفاظ کی آرائش نہیں بلکہ انسانی تجربات ، جذبات اور اجتماعی شعور کی ترجمانی کا نام ہے۔
اپنے خطاب میں *ڈاکٹر نصرت جبین* صاحبہ نے محترمہ *زنفر کھوکھر* صاحبہ کا تفصیلی تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا مکمل نام زنفر کھوکھر ہے جبکہ ان کے والد محترم کا نام *محمد شفیع کھوکھر* اور شوہر کا نام *محمد حنیف کھوکھر* ہے آپ کی ولادت *19 دسمبر 1957ء کو کانڈی گلہوتہ تحصیل مینڈھر* ضلع پونچھ جموں و کشمیر میں ہوئی آپ نے اردو ادب میں *ایم۔اے(M.A اور بی۔ایڈ (B.Ed)* کی تعلیم حاصل کی اور تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں دسمبر *2017ء* میں آپ *سینیئر لیکچرر اردو* کے عہدے سے سبکدوش ہوئیں اگرچہ آپ کی جائے پیدائش ضلع پونچھ ہے تاہم شادی کے بعد آپ ضلع *راجوری* میں سکونت پذیر ہوئیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ محترمہ زنفر کھوکھر صاحبہ کی پہلی کہانی *نسخہ* 1991ء میں روزنامہ ہند سماچار میں شائع ہوئی جس کے بعد ان کا ادبی سفر مسلسل آگے بڑھتا رہا ان کی متعدد تصانیف اردو اور پہاڑی ادب کا قیمتی سرمایہ سمجھی جاتی ہیں جن میں *خوابوں کے اُس پار* ، *کانچ کی سلاخ* ، *عبرت* ، *ہم سب ایک ہیں* ، *چمچے* ، *پتھر کی سیل* اور *کاٹھ نا بلا* شامل ہیں ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں *فخر پیر پنجال ایوارڈ* سمیت متعدد اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
بعد ازاں ناظم نشست ڈاکٹر راشد عزیز صاحب نے محترمہ زنفر کھوکھر کو دعوت خطاب دی تاکہ وہ طلبہ کے روبرو اپنے تخلیقی سفر ادبی تجربات اور فنّی مشاہدات پر روشنی ڈال سکیں۔
محترمہ زنفر کھوکھر نے نہایت سادگی ، انکساری اور خلوص کے ساتھ اپنی گفتگو کا آغاز کیا انہوں نے عاجزانہ انداز میں کہا کہ انہوں نے کوئی غیر معمولی کارنامہ انجام نہیں دیا بلکہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ انہیں اس علمی و ادبی محفل میں مدعو کیا گیا انہوں نے اپنے ابتدائی ادبی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں جب وہ بڑے بڑے ادیبوں کی کتابیں پڑھتی تھیں تو ان کے دل میں یہ خیال آتا تھا کہ آخر یہ لوگ کیسے لکھتے ہوں گے اور کیا وہ خود کبھی ایسا لکھ پائیں گی مگر وقت گزرنے کے ساتھ مطالعہ ، مشاہدہ اور احساس نے ان کے اندر تخلیق کی شمع روشن کی اور پھر انہوں نے قلم کو اپنے جذبات و احساسات کے اظہار کا وسیلہ بنایا ۔
انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ادب محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ایک حساس دل ، بیدار شعور اور گہرے مطالعے کا تقاضا کرتا ہے ان کی گفتگو میں زندگی کے تجربات کی پختگی بھی تھی اور ادب سے والہانہ وابستگی کی خوشبو بھی۔
نشست کا سب سے دلنشیں ، فکر انگیز اور پُراثر مرحلہ ان کی تخلیقات کی قرأت تھی محترمہ زنفر کھوکھر نے اپنے افسانچے *فراغت* کے منتخب اقتباسات سامعین کو سنائے جن میں انسانی نفسیات ، معاشرتی الجھنوں اور زندگی کی داخلی کیفیات کو نہایت لطیف اور فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے معروف اور نہایت اثر انگیز افسانے *اور بوڑھیا مر گئی* کے اقتباسات کی قرأت کی جس نے پوری محفل پر ایک عجیب سنجیدگی اور خاموش تاثر قائم کر دیا اس افسانے میں بڑھاپے کی بے بسی ، تنہائی ، معاشرتی بے حسی ، اولاد کی بے توجہی اور انسانی رشتوں کے بدلتے رویّوں کو نہایت حقیقت پسندانہ اور درد انگیز پیرائے میں پیش کیا گیا ہے۔ افسانے کا مرکزی احساس یہ ہے کہ معاشرہ اکثر اُن بزرگ ہستیوں کو فراموش کر دیتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دوسروں کے لیے وقف کر دی ہوتی ہے کہانی میں ایک بوڑھی عورت کی موت دراصل صرف ایک فرد کی موت نہیں بلکہ انسانی اقدار ، خاندانی وابستگی اور معاشرتی احساس کے زوال کی علامت بن کر سامنے آتی ہے افسانے کے بعض مقامات پر سامعین پر خاموشی طاری ہوگئی گویا ہر شخص اپنی زندگی اور اپنے معاشرے کا کوئی نہ کوئی عکس اس کہانی میں محسوس کر رہا تھا۔
اس کے علاوہ انہوں نے اپنے طنزیہ و مزاحیہ انشائیے *مظلوم* کی قرأت بھی کی جس میں شوہر حضرات کی فرضی مظلومیت کو اس قدر شگفتہ ، برجستہ اور دلنشیں پیرائے میں پیش کیا گیا کہ پوری محفل بارہا قہقہوں اور مسکراہٹوں سے گونج اٹھی۔ تاہم اس مزاح کے پس منظر میں انسانی نفسیات ، گھریلو تعلقات اور معاشرتی رویّوں کا ایک گہرا شعور بھی پوشیدہ تھا جو ان کی تخلیقی بصیرت کا واضح ثبوت ہے۔
محفل کے اختتامی مرحلے میں ناظم نشست ڈاکٹر راشد عزیز صاحب نے شعبۂ اردو کے ایک اور معزز استاذ *ڈاکٹر الطاف حسین نقشبندی* صاحب کو دعوت اظہار خیال دی ڈاکٹر الطاف حسین نقشبندی صاحب نے نہایت مدلل اور پرخلوص انداز میں مہمان خصوصی محترمہ زنفر کھوکھر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسی علمی و ادبی شخصیات کا طلبہ کے درمیان آنا یقیناً ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا امر ہے جس سے نئی نسل کو ادب کے حقیقی شعور اور تخلیقی بصیرت سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے مطالعے کی اہمیت ، ادب سے وابستگی اور تخلیقی ذوق کی آبیاری پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ادب انسان کے اندر احساس ، برداشت اور فکری وسعت پیدا کرتا ہے اس لیے طلبہ کو چاہیے کہ وہ کتابوں سے مضبوط رشتہ قائم رکھیں اور سنجیدہ مطالعے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اس موقع پر محترمہ زنفر کھوکھر کے ساتھ ان کے بھتیجے کی موجودگی نے بھی محفل کو ایک گھریلو اور خوشگوار رنگ عطا کیا جس سے تقریب کی فضا مزید مانوس اور پرتکلف محسوس ہوئی۔
محفل کے اختتام پر یونیورسٹی کی جانب سے محترمہ زنفر کھوکھر کو *اعزازی مومنٹو*( *Memento* ) پیش کیا گیا۔
 بعد ازاں دعائیہ کلمات اور تشکرات کے ساتھ اس یادگار ادبی نشست کا اختتام ہوا تقریب کے اختتام پر اساتذہ ، طلبہ اور مہمان خصوصی نے باہمی تبادلۂ خیال کیا اور یادگاری تصاویر بھی لی گئیں جو اس خوبصورت ادبی لمحے کی دائمی یاد بن گئیں۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ اس نوعیت کی ادبی نشستیں صرف وقتی تقریبات نہیں ہوتیں بلکہ یہ نئی نسل کے اندر تخلیقی شعور ، فکری بالیدگی اور ادبی ذوق کو بیدار کرنے کا مؤثر ذریعہ بنتی ہیں شعبۂ اردو کی یہ کاوش یقیناً لائق تحسین ہے کہ وہ ادب کو محض نصابی دائرے تک محدود رکھنے کے بجائے زندہ تجربے اور فکری مکالمے کی صورت میں طلبہ کے سامنے پیش کر رہا ہے ایسے علمی و ادبی پروگرام نہ صرف اردو زبان و ادب کے فروغ کا وسیلہ بنتے ہیں بلکہ نئی نسل کے اندر احساس ، آگہی اور انسان دوستی کی شمع بھی روشن کرتے ہیں۔


 *رقم خامہ* 
 *خورشید احمد* 
طالب علم (سمسٹر دوم)
 *شعبۂ اردو* 
 *سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر*

Event Photos
Adabi Mulaqat
1 / 1
Central University of Kashmir
Department of
Urdu
School of Languages
Contact Information
  • Department Address

    Department of Urdu, Arts Campus, Duderhuma Ganderbal.

  • Phone 7780830988
  • Email hodurdu@cukashmir.ac.in
Quick Links
  • Department Profile
  • Programmes
  • Faculty
  • Notices
  • Department Activities
Visit University Website

Last Updated on: 01/11/2026 05:26 PM

    Supports:
  • Firefox 2.0+
  • Google Chrome 6.0+
  • Safari 4.0+
  • Edge
Terms Disclaimer Privacy Policy Copyright Policy Hyperlink Policy Sitemap Help Docs


© Central University of Kashmir | Developed by : Umar Bashir, Directorate of ITSS | Version 4.0.0 (Beta) | webmaster@cukashmir.ac.in

  • Home
  • About
    • The Department
    • History, etc
    • Achievements
  • People
    • Head/ Coordinator
    • Academic Coordinator
    • Faculty
      • Dr. Nusrat Jabeen
      • Dr. Mohammad Rashid Azeez
      • Dr. Altaf Hussain Naqshbandi
    • Administrative Staff
      • Mr. Mansoor Ahmad Sofi
      • Ms. Uzma Manzoor
      • Mohammad Momin Sofi
    • Research Scholars
    • Students
      • MA Urdu Students List Batch: 2025
      • MA Urdu List, Batch: 2026
  • Academics
    • Research Programmes
    • PG Programmes
    • UG Programmes
    • Academic Calendar, etc.
  • Research
    • Research Areas
    • Projects
    • Facilities
    • Publications, etc
  • Activities
    • Events, etc.
      • Two days syllabus reviving meeting department of urdu
      • 9th Board of Studies Meeting, Department of Urdu
      • Dissertation Viva-Voce of MA Urdu, 4th Semester (Batch-2024)
    • Guest Lectures/ Expert Talks
    • Outreach and Extension Activities, etc.
    • Latest Announcements
  • Placements
  • Contact Us
    • Contact Details of Department of Urdu, CUK
Redirection Warning!

You are being redirected to an external site. Please note that Central University of Kashmir is not responsible for external websites content & policies